محترم اساتذۂ کرام،
اور میرے عزیز ساتھیو!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج میں جس خوبصورت موضوع پر گفتگو کرنے جا رہا ہوں،
وہ ہے حسنِ اخلاق۔
حسنِ اخلاق کا مطلب ہے
نرمی سے بات کرنا،
سچ بولنا،
معاف کرنا،
دوسروں کی عزت کرنا
اور کسی کو تکلیف نہ دینا۔
یہ وہ خوبیاں ہیں جو ایک عام انسان کو
ایک عظیم انسان بنا دیتی ہیں۔
ہمارے پیارے نبی
حضرت محمد ﷺ
نے حسنِ اخلاق کو دین کی بنیاد قرار دیا۔
آپ ﷺ کا اخلاق ایسا تھا کہ
دشمن بھی آپ کے کردار کا اعتراف کرتے تھے۔
آپ ﷺ نرم دل تھے،
معاف کرنے والے تھے،
اور ہر ایک کے ساتھ محبت سے پیش آتے تھے۔
میرے عزیزو!
اچھی بات یہ ہے کہ
حسنِ اخلاق کے لیے
نہ دولت چاہیے،
نہ طاقت—
صرف ایک اچھا دل چاہیے۔
اگر ہم اسکول میں
اساتذہ کا احترام کریں،
ساتھیوں سے اچھا سلوک کریں،
اور سچائی کو اپنا شعار بنائیں
تو ہم نہ صرف اچھے طالب علم
بلکہ اچھے انسان بھی بن سکتے ہیں۔
یاد رکھیے!
الفاظ انسان کو زخمی بھی کر سکتے ہیں
اور جوڑ بھی سکتے ہیں۔
اس لیے ہمیں ہمیشہ
نرم لہجہ اور اچھا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
آخر میں دعا ہے کہ
اللہ تعالیٰ ہمیں
حسنِ اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے
اور ہمیں ایسا انسان بنائے
جس سے دوسروں کو راحت ملے، تکلیف نہیں۔
آمین
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ